Quantcast
Ads by Muslim Ad Network









ar-Rum Farsi:: Ghodratollah Bakhtiari Nejad 

Ayat
30:1الف، لام، میم (حقیقی معنی اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)،
30:2اہلِ روم (فارس سے) مغلوب ہوگئے،
30:3نزدیک کے ملک میں، اور وہ اپنے مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب ہو جائیں گے،
30:4چند ہی سال میں (یعنی دس سال سے کم عرصہ میں)، اَمر تو اﷲ ہی کا ہے پہلے (غلبۂ فارس میں) بھی اور بعد (کے غلبۂ روم میں) بھی، اور اس وقت اہلِ ایمان خوش ہوں گے،
30:5اﷲ کی مدد سے، وہ جس کی چاہتا ہے مدد فرماتا ہے، اور وہ غالب ہے مہربان ہے،
30:6(یہ تو) اﷲ کا وعدہ ہے، اﷲ اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے،
30:7وہ (تو) دنیا کی ظاہری زندگی کو (ہی) جانتے ہیں اور وہ لوگ آخرت (کی حقیقی زندگی) سے غافل و بے خبر ہیں،
30:8کیا انہوں نے اپنے مَن میں کبھی غور نہیں کیا کہ اﷲ نے آسمانوں اور زمین کو اور جوکچھ ان دونوں کے درمیان ہے پیدا نہیں فرمایا مگر (نظامِ) حق اور مقرّرہ مدت (کے دورانیے) کے ساتھ، اور بیشک بہت سے لوگ اپنے رب کی ملاقات کے مُنکِر ہیں،
30:9کیا ان لوگوں نے زمین میں سَیر و سیاحت نہیں کی تاکہ وہ دیکھ لیتے کہ ان لوگوں کا انجام کیا ہوا جو ان سے پہلے تھے، وہ لوگ اِن سے زیادہ طاقتور تھے، اور انہوں نے زمین میں زراعت کی تھی اور اسے آباد کیا تھا، اس سے کہیں بڑھ کر جس قدر اِنہوں نے زمین کو آباد کیا ہے، پھر ان کے پاس ان کے پیغمبر واضح نشانیاں لے کر آئے تھے، سو اﷲ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا، لیکن وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کر رہے تھے،
30:10پھر ان لوگوں کا انجام بہت برا ہوا جنہوں نے برائی کی اس لئے کہ وہ اﷲ کی آیتوں کو جھٹلاتے اور ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے،
30:11اﷲ مخلوق کو پہلی بار پیدا فرماتا ہے پھر (وہی) اسے دوبارہ پیدا فرمائے گا، پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے،
30:12اور جس دن قیامت قائم ہوگی تو مجرم لوگ مایوس ہو جائیں گے،
30:13اور ان کے (خود ساختہ) شریکوں میں سے ان کے لئے سفارشی نہیں ہوں گے اور وہ (بالآخر) اپنے شریکوں کے (ہی) مُنکِر ہو جائیں گے،
30:14اور جس دن قیامت برپا ہوگی اس دن لوگ (نفسا نفسی میں) الگ الگ ہو جائیں گے،
30:15پس جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے تو وہ باغاتِ جنت میں خوش حال و مسرور کر دیئے جائیں گے،
30:16اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو اور آخرت کی پیشی کو جھٹلایا تو یہی لوگ عذاب میں حاضر کئے جائیں گے،
30:17پس تم اﷲ کی تسبیح کیا کرو جب تم شام کرو (یعنی مغرب اور عشاء کے وقت) اور جب تم صبح کرو (یعنی فجر کے وقت)،
30:18اور ساری تعریفیں آسمانوں اور زمین میں اسی کے لئے ہیں اور (تم تسبیح کیا کرو) سہ پہر کو بھی (یعنی عصر کے وقت) اور جب تم دوپہر کرو (یعنی ظہر کے وقت)،
30:19وُہی مُردہ سے زندہ کو نکالتا ہے اور زندہ سے مُردہ کو نکالتا ہے اور زمین کو اس کی مُردنی کے بعد زندہ و شاداب فرماتا ہے، اور تم (بھی) اسی طرح (قبروں سے) نکالے جاؤ گے،
30:20اور یہ اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر اب تم انسان ہو جو (زمین میں) پھیلے ہوئے ہو،
30:21اور یہ (بھی) اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس سے جوڑے پیدا کئے تاکہ تم ان کی طرف سکون پاؤ اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی، بیشک اس (نظامِ تخلیق) میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو غور و فکر کرتے ہیں،
30:22اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی تخلیق (بھی) ہے اور تمہاری زبانوں اور تمہارے رنگوں کا اختلاف (بھی) ہے، بیشک اس میں اہلِ علم (و تحقیق) کے لئے نشانیاں ہیں،
30:23اور اس کی نشانیوں میں سے رات اور دن میں تمہارا سونا اور اس کے فضل (یعنی رزق) کو تمہارا تلاش کرنا (بھی) ہے۔ بیشک اس میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو (غور سے) سنتے ہیں،
30:24اور اس کی نشانیوں میں سے یہ (بھی) ہے کہ وہ تمہیں ڈرانے اور امید دلانے کے لئے بجلی دکھاتا ہے اور آسمان سے (بارش کا) پانی اتارتا ہے پھر اس سے زمین کو اس کی مُردنی کے بعد زندہ و شاداب کر دیتا ہے، بیشک اس میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں،
30:25اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ آسمان و زمین اس کے (نظامِ) اَمر کے ساتھ قائم ہیں پھر جب وہ تم کو زمین سے (نکلنے کے لئے) ایک بار پکارے گا تو تم اچانک (باہر) نکل آؤ گے،
30:26اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے (سب) اسی کا ہے، سب اسی کے اطاعت گزار ہیں،
30:27اور وہی ہے جو پہلی بار تخلیق کرتا ہے پھر اس کا اِعادہ فرمائے گا اور یہ (دوبارہ پیدا کرنا) اُس پر بہت آسان ہے۔ اور آسمانوں اور زمین میں سب سے اونچی شان اسی کی ہے، اور وہ غالب ہے حکمت والا ہے،
30:28اُس نے (نکتۂ توحید سمجھانے کے لئے) تمہارے لئے تمہاری ذاتی زندگیوں سے ایک مثال بیان فرمائی ہے کہ کیا جو (لونڈی، غلام) تمہاری مِلک میں ہیں اس مال میں جو ہم نے تمہیں عطا کیا ہے شراکت دار ہیں، کہ تم (سب) اس (ملکیت) میں برابر ہو جاؤ۔ (مزید یہ کہ کیا) تم ان سے اسی طرح ڈرتے ہو جس طرح تمہیں اپنوں کا خوف ہوتا ہے (نہیں) اسی طرح ہم عقل رکھنے والوں کے لئے نشانیاں کھول کر بیان کرتے ہیں (کہ اﷲ کا بھی اس کی مخلوق میں کوئی شریک نہیں ہے)،
30:29بلکہ جن لوگوں نے ظلم کیا ہے وہ بغیر علم (و ہدایت) کے اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں، پس اس شخص کو کون ہدایت دے سکتا ہے جسے اﷲ نے گمراہ ٹھہرا دیا ہو اور ان لوگوں کے لئے کوئی مددگار نہیں ہے،
30:30پس آپ اپنا رخ اﷲ کی اطاعت کے لئے کامل یک سُوئی کے ساتھ قائم رکھیں۔ اﷲ کی (بنائی ہوئی) فطرت (اسلام) ہے جس پر اس نے لوگوں کو پیدا فرمایا ہے (اسے اختیار کر لو)، اﷲ کی پیدا کردہ (سرِشت) میں تبدیلی نہیں ہوگی، یہ دین مستقیم ہے لیکن اکثر لوگ (ان حقیقتوں کو) نہیں جانتے،
30:31اسی کی طرف رجوع و اِنابت کا حال رکھو اور اس کا تقوٰی اختیار کرو اور نماز قائم کرو اور مشرکوں میں سے مت ہو جاؤ،
30:32ان (یہود و نصارٰی) میں سے (بھی نہ ہونا) جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا اور وہ گروہ در گروہ ہو گئے، ہر گروہ اسی (ٹکڑے) پر اِتراتا ہے جو اس کے پاس ہے،
30:33اور جب لوگوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے رب کو اس کی طرف رجوع کرتے ہوئے پکارتے ہیں، پھر جب وہ ان کو اپنی جانب سے رحمت سے لطف اندوز فرماتا ہے تو پھر فوراً ان میں سے کچھ لوگ اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں،
30:34تاکہ اس نعمت کی ناشکری کریں جو ہم نے انہیں عطا کی ہے پس تم (چند روزہ زندگی کے) فائدے اٹھا لو، پھر عنقریب تم (اپنے انجام کو) جان لو گے،
30:35کیا ہم نے ان پر کوئی (ایسی) دلیل اتاری ہے جو ان (بتوں) کے حق میں شہادۃً کلام کرتی ہو جنہیں وہ اﷲ کا شریک بنا رہے ہیں،
30:36اور جب ہم لوگوں کو رحمت سے لطف اندوز کرتے ہیں تو وہ اس سے خوش ہو جاتے ہیں، اور جب انہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے ان (گناہوں) کے باعث جو وہ پہلے سے کر چکے ہیں تو وہ فوراً مایوس ہو جاتے ہیں،
30:37کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ اﷲ جس کے لئے چاہتا ہے رزق کشادہ فرما دیتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کر دیتا ہے۔ بیشک اس میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو ایمان رکھتے ہیں،
30:38پس آپ قرابت دار کو اس کا حق ادا کرتے رہیں اور محتاج اور مسافر کو (ان کا حق)، یہ ان لوگوں کے لئے بہتر ہے جو اﷲ کی رضامندی کے طالب ہیں، اور وہی لوگ مراد پانے والے ہیں،
30:39اور جو مال تم سود پر دیتے ہو تاکہ (تمہارا اثاثہ) لوگوں کے مال میں مل کر بڑھتا رہے تو وہ اﷲ کے نزدیک نہیں بڑھے گا اور جو مال تم زکوٰۃ (و خیرات) میں دیتے ہو (فقط) اﷲ کی رضا چاہتے ہوئے تو وہی لوگ (اپنا مال عند اﷲ) کثرت سے بڑھانے والے ہیں،
30:40اﷲ ہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا پھر اس نے تمہیں رزق بخشا پھر تمہیں موت دیتا ہے پھر تمہیں زندہ فرمائے گا، کیا تمہارے (خود ساختہ) شریکوں میں سے کوئی ایسا ہے جو ان (کاموں) میں سے کچھ بھی کر سکے، وہ (اﷲ) پاک ہے اور ان چیزوں سے برتر ہے جنہیں وہ (اس کا) شریک ٹھہراتے ہیں،
30:41بحر و بر میں فساد ان (گناہوں) کے باعث پھیل گیا ہے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کما رکھے ہیں تاکہ (اﷲ) انہیں بعض (برے) اعمال کا مزہ چکھا دے جو انہوں نے کئے ہیں، تاکہ وہ باز آجائیں،
30:42آپ فرما دیجئے کہ تم زمین میں سیر و سیاحت کیا کرو پھر دیکھو پہلے لوگوں کا کیسا (عبرت ناک) انجام ہوا، ان میں زیادہ تر مشرک تھے،
30:43سو آپ اپنا رُخِ (انور) سیدھے دین کے لئے قائم رکھیئے قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جسے اﷲ کی طرف سے (قطعاً) نہیں پھرنا ہے۔ اس دن سب لوگ جدا جدا ہو جائیں گے،
30:44جس نے کفر کیا تو اس کا (وبالِ) کفر اسی پر ہے اور جو نیک عمل کرے سو یہ لوگ اپنے لئے (جنّت کی) آرام گاہیں درست کر رہے ہیں،
30:45تاکہ اﷲ اپنے فضل سے ان لوگوں کو بدلہ دے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے۔ بیشک وہ کافروں کو دوست نہیں رکھتا،
30:46اور اس کی نشانیوں میں سے یہ (بھی) ہے کہ وہ (بارش کی) خوشخبری سنانے والی ہواؤں کو بھیجتا ہے تاکہ تمہیں (بارش کے ثمرات کی صورت میں) اپنی رحمت سے بہرہ اندوز فرمائے اور تاکہ (ان ہواؤں کے ذریعے) جہاز (بھی) اس کے حکم سے چلیں۔ اور (یہ سب) اس لئے ہے کہ تم اس کا فضل (بصورتِ زراعت و تجارت) تلاش کرو اور شاید تم (یوں) شکرگزار ہو جاؤ،
30:47اور درحقیقت ہم نے آپ سے پہلے رسولوں کو ان کی قوموں کی طرف بھیجا اور وہ ان کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے پھر ہم نے (تکذیب کرنے والے) مجرموں سے بدلہ لے لیا، اور مومنوں کی مدد کرنا ہمارے ذمۂ کرم پر تھا (اور ہے)،
30:48اﷲ ہی ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے تو وہ بادل کو ابھارتی ہیں پھر وہ اس (بادل) کو فضائے آسمانی میں جس طرح چاہتا ہے پھیلا دیتا ہے پھر اسے (متفرق) ٹکڑے (کر کے تہ بہ تہ) کر دیتا ہے، پھر تم دیکھتے ہو کہ بارش اس کے درمیان سے نکلتی ہے، پھر جب اس (بارش) کو اپنے بندوں میں سے جنہیں چاہتا ہے پہنچا دیتا ہے تو وہ فوراً خوش ہو جاتے ہیں،
30:49اگرچہ ان پر بارش کے اتارے جانے سے پہلے وہ لوگ مایوس ہو رہے تھے،
30:50سو آپ اﷲ کی رحمت کے اثرات کی طرف دیکھئے کہ وہ کس طرح زمین کو اس کی مُردنی کے بعد زندہ فرما دیتا ہے، بیشک وہ مُردوں کو (بھی اسی طرح) ضرور زندہ کرنے والا ہے اور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے،
30:51اور اگر ہم (خشک) ہوا بھیج دیں اور وہ (اپنی) کھیتی کو زرد ہوتا ہوا دیکھ لیں تو اس کے بعد وہ (پہلی تمام نعمتوں سے) کفر کرنے لگیں گے،
30:52(اے حبیب!) بیشک آپ نہ تو (اِن کافر) مُردوں کو اپنی پکار سناتے ہیں اور نہ (بدبخت) بہروں کو، جبکہ وہ (آپ ہی سے) پیٹھ پھیرے جا رہے ہوں،
30:53اور نہ ہی آپ (ان) اندھوں کو (جو محرومِ بصیرت ہیں) گمراہی سے راہِ ہدایت پر لانے والے ہیں، آپ تو صرف انہی لوگوں کو (فہم اور قبولیت کی توفیق کے ساتھ) سناتے ہیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لے آتے ہیں، سو وہی مسلمان ہیں (ان کے سوا کسی اور کو آپ سناتے ہی نہیں ہیں)،
30:54اﷲ ہی ہے جس نے تمہیں کمزور چیز (یعنی نطفہ) سے پیدا فرمایا پھر اس نے کمزوری کے بعد قوتِ (شباب) پیدا کیا، پھر اس نے قوت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا پیدا کر دیا، وہ جو چاہتا ہے پیدا فرماتا ہے اور وہ خوب جاننے والا، بڑی قدرت والا ہے،
30:55اور جس دن قیامت برپا ہوگی مُجرم لوگ قَسمیں کھائیں گے کہ وہ (دنیا میں) ایک گھڑی کے سوا ٹھہرے ہی نہیں تھے، اسی طرح وہ (دنیا میں بھی حق سے) پھرے رہتے تھے،
30:56اور جنہیں علم اور ایمان سے نوازا گیا ہے (ان سے) کہیں گے: درحقیقت تم اﷲ کی کتاب میں (ایک گھڑی نہیں بلکہ) اٹھنے کے دن تک ٹھہرے رہے ہو، سو یہ ہے اٹھنے کا دن، لیکن تم جانتے ہی نہ تھے،
30:57پس اس دن ظالموں کو ان کی معذرت کوئی فائدہ نہ دے گی اور نہ ہی ان سے (اﷲ کو) راضی کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا،
30:58اور درحقیقت ہم نے لوگوں (کے سمجھانے) کے لئے اس قرآن میں ہر طرح کی مثال بیان کر دی ہے، اور اگر آپ ان کے پاس کوئی (ظاہری) نشانی لے آئیں تب بھی یہ کافر لوگ ضرور (یہی) کہہ دیں گے کہ آپ محض باطل و فریب کار ہیں،
30:59اسی طرح اﷲ ان لوگوں کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے جو (حق کو) نہیں جانتے،
30:60پس آپ صبر کیجئے، بیشک اﷲ کا وعدہ سچا ہے، جو لوگ یقین نہیں رکھتے کہیں (ان کی گمراہی کا غم اور ہدایت کی فکر) آپ کو کمزور ہی نہ کر دیں۔ (اے جانِ جہاں! ان کے کفر کو غمِ جاں نہ بنا لیں)،



Share this Surah Translation on Facebook...